نکلے جو اک بھنور سے تو لاچار ہو گئے
ہم پھر نئے بھنور میں گرفتار ہو گئے
اپنا سمجھ رہے تھے جسے، غیر تھا وہی
چہرے سبھی کے ہم پہ نمودار ہو گئے
تعمیر کر ہی لیتے، یقیں کا محل مگر
دشمن ہی ان فصیلوں کے معمار ہو گئے
نفرت کے اس جہاں میں محبت کی اک کرن
پانے کی آرزو میں گنہگار ہو گئے
تہمت جو ہم پہ آئی، نہ جانے یہ کس طرح
ہم بے خطا سزا کے سزاوار ہو گئے
اپنوں نے لوٹ لی ہے مری ساری زندگی
وہ لوگ جو وفا کے اداکار ہو گئے
خاموشیوں سے شادؔ، تجھے خوف تھا سدا
کیوں تم سکوت کے ہی طلبگار ہو گئے

0
2