زندگی ہو تو جاودانی ہو
ورنہ تو موت ناگہانی ہو
جس کو سننے نہیں تُو رُک پایا
یوں نہ ہو وہ تِری کہانی ہو
بادشاہ! عامیوں میں آ کر رہ
تجھے محسوس کچھ گرانی ہو
اے وطن پیار تم سے کرتا ہوں
میرے اجداد کی نشانی ہو
ہر کسی سے نہیں الجھتا میں
ہو جو دشمن تو خاندانی ہو
بِن کہے تیرے تیری سنتا ہوں
ہم نفس تم مِری پرانی ہو
دوستی داؤ پر لگانا مت
چاہے تم کو وہ آزمانی ہو

0
11