| شب کو اک بار کھل کے روتا ہوں |
| چین کی نیند پھر میں سوتا ہوں |
| اشک دل میں سنبھالتا ہوں میں |
| بیج یوں میں وفا کے بوتا ہوں |
| میرے آنسو کبھی نہیں رکتے |
| میں ہمیشہ وضو سے ہوتا ہوں |
| ساتھ رکھتا نہیں میں زادِ سفر |
| جسم لاغر ہے یہ ہی ڈھوتا ہوں |
| ہوتا جاتا ہوں اس سخی کے قریب |
| جیسے جیسے غریب ہوتا ہوں |
معلومات