سدا دل سے نکلے یہی بس دعا
عطا دیدِ دلبر ہو بارِ خدا
ہے جیون اجیرن کیا ہجر نے
دکھا دے اے مولا درِ مصطفیٰ
مدینے کے روشن ہیں شام و سحر
مدینے کو نوری کریں دلربا
منور مدینہ کے بازار ہیں
ملے جن سے کونین کو ہر ضیا
کرم کی نظر ہو زبوں حال پر
سنیں یہ گذارش حبیبِ الہ
کہیں کھو نہ جاؤں میں محشر مِیں جاں
شفاعت ہے تیری شہا آسرا
جپوں نامِ نامی لبِ مرگ میں
سخی پیارے سرور نبی مصطفیٰ
مدینے میں مٹی مجھے گود لے
یہ محمود عاصی کرے التجا

1
6
# مجموعی پیغام
یہ نعت تین بنیادی جذبات پر قائم ہے:
1۔ شوقِ مدینہ
2۔ امیدِ شفاعت
3۔ محبتِ رسول ﷺ
عقیدے کے اعتبار سے اس میں کوئی غلو نہیں — سب کچھ اللہ کی عطا اور حضور ﷺ کی شفاعت کے دائرے میں بیان ہوا ہے۔

0