آئے گا ایک وقت جب آئیں گے سارے لوگ
اور مجھ کو لے کے دوش پہ جائیں گے سارے لوگ
کر دیں گے میرا نام بھی اس جسم سے جدا
بس مٹّی کہہ کے مجھ کو بلائیں گے سارے لوگ
اِک مشت خاک ڈال کے پلٹیں گے قبر سے
رسمِ وفا بس اتنی نبھائیں گے سارے لوگ
گزرے گی مجھ پہ جو بھی وہ گزرے گی قبر میں
یخنی پلاؤ تیجے میں کھائیں گے سارے لوگ
گر فاتحہ میں میری ذرا بھی کمی ہوئی
باتیں نہ جانے کتنی بنائیں گے سارے لوگ
پہلے پہل تو بھیڑ لگے گی مزار پر
پھر بس شبِ برات ہی آئیں گے سارے لوگ
جو بھی متاعِ زیست تھا منسوب میرے نام
اس پر بھی اختیار جتائیں گے سارے لوگ
قسطیں جو لون کی میں نہیں کر سکا ادا
بچوں کو میرے آ کے ستائیں گے سارے لوگ
سالم تو ایک بار ذرا مر کہ دیکھ لے
دو دن میں کیسے تجھ کو بھلائیں گے سارے لوگ

0
5