| اسی چھت پر ستاروں کو کبھی دیکھا |
| گماں کب تھا کہ ان کی لو مسافر ہے |
| بہت پہلے کبھی نکلی ہوئی ہوگی |
| مگر کس کو خبر، وہ اب کہاں ہوگا |
| مرے اندر وہی بچپن چمکتا ہے |
| جسے میں نے بہت پہلے بھلا ڈالا |
| نہیں معلوم - میں اس کا تسلسل ہوں |
| مگر اب بھی مری آنکھیں اسی کی ہیں |
| اسی چھت پر ستاروں کو کبھی دیکھا |
| گماں کب تھا کہ ان کی لو مسافر ہے |
| بہت پہلے کبھی نکلی ہوئی ہوگی |
| مگر کس کو خبر، وہ اب کہاں ہوگا |
| مرے اندر وہی بچپن چمکتا ہے |
| جسے میں نے بہت پہلے بھلا ڈالا |
| نہیں معلوم - میں اس کا تسلسل ہوں |
| مگر اب بھی مری آنکھیں اسی کی ہیں |
معلومات