| پاک وطن بھی ہوتا تھا خوش حال کبھی |
| رب جانے اب اس کو لگی ہے نظر کس کی |
| اللہ کی رحمت ہوتی تھی شام و سحر |
| ہم سب پیار سے رہتے تھے مل جل کے ادھر |
| یاد ہیں اب تک وہ رنگین چو بارے بھی |
| اور پرانے سارے سنگی پیارے بھی |
| گلیوں میں تب کھیل تماشے ہوتے تھے |
| ہر موسم میں میلے ٹھیلے لگتے تھے |
| اب بارود کی بو ہے گلیوں کوچوں میں |
| نفرت ہی نفرت ہے سب کی سوچوں میں |
| ٹوٹ پڑے ہیں چاروں طرف سے دشمن اب |
| پھول کلی کیا خطرے میں ہے گلشن اب |
| خون بہا ہے آخر کو جم جائے گا |
| سرخ کرے گا دھرتی، رنگ بھی لائے گا |
| ظلم کبھی انجام کو اپنے پہنچے گا |
| بڑھ کر کوئی ہاتھ عدو کا روکے گا |
| آؤ ادا ہم بھی اپنا کردار کریں |
| پاک وطن کو پھر سے ہم گلزار کریں |
معلومات