دل کے ملبے پہ نئے خواب اگا ہی دیں گے
لوگ ہر زخم کو تقدیر بنا ہی دیں گے
جن کے چہروں پہ وفاداری کے قصّے تھے کبھی
وقت آئے گا تو آئینہ دکھا ہی دیں گے
شہر خاموش ہے، دیواریں بھی سہمی سی ہیں
پھر کوئی شور کے معنی کو سزا ہی دیں گے
ہم نے دیکھا ہے اندھیروں کو حکومت کرتے
یہ بھی ممکن ہے چراغوں کو بجھا ہی دیں گے
جن کے ہاتھوں میں امانت تھی قبیلے کی کبھی
وہی بازار میں تاریخ لٹا ہی دیں گے
اپنی مٹی سے بچھڑنے کا صلہ ایسا ملا
نام زندہ بھی رہے تو وہ مٹا ہی دیں گے
ہم نے لفظوں کو بچا رکھا ہے سینے میں کہیں
یہی کل وقت کو ہونے کی گواہی دیں گے
رسمِ دربار یہی ہے کہ خطا گم کر دو
اور گناہوں کو نئے تاج وہ پہنا ہی دیں گے

0
4