| بھلا کر یہ جھوٹے زمانے چلیں ہم |
| چلو اب پرانے ٹھکانے چلیں ہم |
| یہاں کوئی اپنا نہیں ہے کسی کا |
| سمجھ کر یہ سارے بہانے چلیں ہم |
| وفا کا طریقہ بدل کر دکھائیں |
| نئی اک روایت بنانے چلیں ہم |
| نہیں راس آئی ہمیں شہر کی شب |
| کہیں اور لے کر فسانے چلیں ہم |
| ادھورے رہے جو ہمارے ارادے |
| بنا کر نئے کچھ نشانے چلیں ہم |
| سکوں دل کو ملتا ہے مٹی میں اپنی |
| لیے پیار کے اب خزانے چلیں ہم |
| یہاں شادؔ ہم گھٹ کے مر ہی نہ جائیں |
| سجا کر لبوں پر ترانے چلیں ہم |
معلومات