بھلا کر یہ جھوٹے زمانے چلیں ہم
چلو اب پرانے ٹھکانے چلیں ہم
​یہاں کوئی اپنا نہیں ہے کسی کا
سمجھ کر یہ سارے بہانے چلیں ہم
​وفا کا طریقہ بدل کر دکھائیں
نئی اک روایت بنانے چلیں ہم
​نہیں راس آئی ہمیں شہر کی شب
کہیں اور لے کر فسانے چلیں ہم
​ادھورے رہے جو ہمارے ارادے
بنا کر نئے کچھ نشانے چلیں ہم
​سکوں دل کو ملتا ہے مٹی میں اپنی
لیے پیار کے اب خزانے چلیں ہم
​یہاں شادؔ ہم گھٹ کے مر ہی نہ جائیں
سجا کر لبوں پر ترانے چلیں ہم

0
2