جن کو انعام دیا میں نے وفاداری پر
اب وہی لوگ اتر آئے ہیں غداری پر
عشق کا روگ برا ہے جو کہا کرتے تھے
رشک کرتے ہیں وہی اب مری بیماری پر
دیکھوں آئینہ تو حیرانی نہیں جاتی ہے
کیا سے کیا ہو گئی یہ ریت بھی فنکاری پر
قتل نردوش ہوا شک کی بنا پر ازہر
حرف آیا نہ مگر مجرم اقراری پر
آپ بھی چاک گریبان لیے پھرتے ہیں
آپ تو ناز کیا کرتے تھے ہشیاری پر
کوئی مسجد کیا کوئی گھر نہ بچے گا اک دن
ہم جو خاموش رہے دوستو،! مسماری پر
قتل کرتا ہے تماشہ نہیں ہونے دیتا
یعنی مجبور ہے قاتل بھی اداکاری پر
ایسا لگتا ہے ہمیں اپنے وطن کے اندر
عدل مجبور ہے قاتل کی طرفداری پر

0
4