چاند لگتے ہو تم وہاں جا کے
چُھو کے آتے ہو آسماں جا کے
یاد کرتے ہو تم جہاں جا کے
یاد رہتے ہو پھر یہاں، جا کے
جہاں درکار تھی نظر دل کی
ہم نے دیکھا تمہیں وہاں جا کے
ہم نے اُس موڑ پر تمہیں پایا
تھک کے بیٹھے تھے ہم جہاں جا کے
اپنے اپنے مدار کے تابع
دونوں رُکتے مگر کہاں جا کے
ہم وہاں ہوں تمہارے پہلو میں
لوگ آتے نہیں جہاں جا کے

0
87