زندگی کا سفر ہے بڑا مختصر
نیکیوں سے اسے کر ذرا معتبر
سن لے دنیا غلاظت کا انبار ہے
راہِ حق سے نہ ہونا کبھی بے خبر
مال و زر کے نہ پیچھے کھبی بھاگنا
ساتھ جائے گا بس نیکیوں کا ثمر
وقت ڈھل جائے گا دیکھتے دیکھتے
سانس رکنے سے پہلے ہی کر لے قدر
جب بلائے گا مالک تو جانا ہے پھر
جی لے چاہے کوئی کتنی لمبی عمر
روز محشر اگر ہونا ہے سرخرو
اے عتیق اپنے اعمال پر رکھ نظر

0
7