| آج اس کے لفظوں میں ایسا درد جھلکا ہے |
| جس کو سوچ کر اپنا آنسو بھی چھلکا ہے |
| جس کو ہم نہ سمجھے تھے اور سمجھتے بھی کیسے |
| درد وہ کہ ایسا ہے خود کو کھونے جیسا ہے |
| ایسا کوئی بھی لمحہ رب نہ ہم کو دکھلائے |
| یار اپنا کھونے پر جس میں رونا پڑ جائے |
| زندگی میں ویسے تو ہم سفر بہت سے ہیں |
| پر لباس جس کو ہم مانتے ہیں کہتے ہیں |
| ایسے ہم سفر کا پھر راہ میں بچھڑ جانا |
| دیر تک ستاتا ہے دیر تک رلاتا ہے |
| اور گر لباس ایسا ہو بھی پہلا پہلا تو |
| اور بھی ستاتا ہے اور بھی رلاتا ہے |
| ہم کو تو یہ لاگے ہے وقت کا ٹھہر جانا |
| رب نہ ہم کو دکھلائے یار کا بچھڑ جانا |
معلومات