| ستم گروں کے ستم کا جواب دیتا جا |
| لہو میں ڈوبے ہوئے کچھ گلاب دیتا جا |
| وہ جس سے نشۂ الفت شدید ہو جائے |
| ہمیں بھی ساقیا ایسی شراب دیتا جا |
| تمام عمر جگایا ہے جس نے آنکھوں کو |
| یہ کیسا خواب تھا تعبیر خواب دیتا جا |
| بروز حشر بلا کر سبھی سے محشر میں |
| کہے گا مالک دنیا حساب دیتا جا |
| فریب کھا نہیں سکتے ہم اہل صحرا ہیں |
| تجھے ہے زعم تو ہم کو سراب دیتا جا |
| ہمارا چاند ستاروں سے دل نہ بہلے گا |
| ہمیں ہے دن کی طلب آفتاب دیتا جا |
| یہ آب و تاب اسی سے ہے خانۂ دل میں |
| سکون دل کو مرے اضطراب دیتا جا |
| کبھی نہ بیٹھ ستمگر سے ڈر کے اے ازہر |
| اسیر ہو جا مگر انقلاب دیتا جا |
معلومات