| دُکھ کی گٹھڑی پڑی ہے ڈھونے کو |
| عمر اک لگ گئی سمونے کو |
| میں بھنور سے نکل کے آیا ہوں |
| آ گئے ہو مجھے ڈبونے کو |
| پھول کھلتے نہیں بہار میں بھی |
| خار اب رہ گئے بچھونے کو |
| اب تو پتھرا گئی ہیں آنکھیں بھی |
| اب بھی کچھ رہ گیا ہے رونے کو؟ |
| سارے دکھ ہی یہاں تھے ہونے کے |
| اور تم کہہ رہے ہو ہونے کو! |
| روح پر داغ جو لگے اب تک |
| عمر باقی لگے گی دھونے کو |
| جو کمایا تھا لٹ گیا سب کچھ |
| کچھ بھی باقی بچا نہ کھونے کو |
| دل بچا ہے دھڑک رہا ہے ابھی |
| توڑ دو آخری کھلونے کو |
معلومات