یاں بات بن نہ پائے گی شاید بیان سے
اب سوچتا ہوں تیغ نکالوں میان سے
کردار ہیں کہانی کے ہم ہی تو مرکزی
ہم کو نکال پاؤ گے تم داستان سے
میں ہی ہوں جس کو آپ نے ٹھکرا دیا تھا کل
حیراں پھر آج کیوں ہو یوں میری اڑان سے
دیتے ہیں سر بھلے ہی جو بیعت کبھی نہیں
ہم ہیں اسی قبیل اسی خاندان سے
فتنہ فساد ظلم اگر یوں ہی بڑھیں گے
برسے گی آگ دیکھنا پھر آسمان سے
شبیر خوب سوچ لو انجام بعد میں
الفاظ تم نکالو یہاں پر زبان سے

0
3