خموشی بولتی ہے اب در و دیوار کے اندر
کوئی آہیں بھی بھرتا ہے سرِ کہسار کے اندر
ستم کا دائرہ پھیلا ہوا ہے اس طرح جیسے
کہ سانسیں قید ہیں اب ہر دلِ بیدار کے اندر
کسی کی بھوک کے سر پر سجا جو تاج زر کا ہے
سسک کوئی رہا ہے درد کے اس غار کے اندر
وہ پتھر دل نگہباں ہیں کہ جن کے قہر سے اب تک
لہو کی دھار بہتی ہے سرِ بازار کے اندر
یہ بستی ہے کہ جس کا ہر کوئی باسی بے اماں ہے
اترتی جا رہی ہے اب ہوس سرکار کے اندر
سیاست کی کتابوں سے ملا ہے بس یہی تحفہ
کہ جلتا گھر ہے اب ہر ایک پرچم دار کے اندر
ستم کی دھوپ میں کب تک جلیں گے بے کسوں کے تن
کوئی تو پھول مہکے گا کسی گلزار کے اندر
وفا کے اب تو وہ عنوان ہی مٹتے رہے عادلؔ
کہ جیسے نام لکھتے ہوں کسی منجھدار کے اندر

0
4