پہلے شہ رگ پہ ہاتھ رکھتا ہوں
پھر خدا سے میں بات کرتا ہوں
گو کہ جگنو ہے میری ذات مگر
عارضی روشنی سے ڈرتا ہوں
تاکہ زخموں کو صبر آ جائے
کٹ کے دنیا سے دور چلتا ہوں
یاد کی ان ٹھٹھرتی شاموں میں
دل کا جلتا چراغ دھرتا ہوں
بھیڑ میں مسکرانا ہوتا ہے
خشک آنکھوں میں اشک بھرتا ہوں
محمد اویس قرنی

0