بس یہ رات اور سہی، میرے رفیق
صبح کا ذکر ابھی رہنے دو
شہر کے بند دریچوں کے تلے
کتنی آوازیں دبی رہتی ہیں
کتنے چہرے ہیں جو دن بھر ہنس کر
رات بھر آئینوں سے بچتے ہیں
ہاتھ خالی ہیں مگر ہاتھ تو ہیں
جن میں اک دوسرے کی گرمی ہے
گھر اندھیرے میں سہی، گھر تو ہے
اس کی دیوار کی اک درز سے ہی
تھوڑی سی روشنی تو آتی ہے
ہم نے ہر روز نئے زخم کے ساتھ
اپنی پوشاک سنبھالی ہے یہاں
جیسے بوسیدہ سے کپڑے پہ کوئی
رات بھر بیٹھ کے ٹانکے رکھے
کچھ چراغوں کی لویں کم ہیں مگر
ان کی آنکھوں میں دھواں باقی ہے
کچھ قدم تھک کے ٹھہر بھی جائیں
راہ میں ان کا نشاں باقی ہے
یہ جو دیوار کھڑی ہے کب سے
اس میں اک اینٹ ذرا ڈھیلی ہے
اور اس اینٹ کے پیچھے شاید
صبح کی پہلی کرن ٹھہری ہے
آج کچھ دیر یہ بوجھ اور سہی
آج کچھ دیر یہ خاموشی بھی
کون جانے اسی دیوار کے پار
کوئی آہٹ ہمیں سنتی ہو ابھی
بس یہ رات اور سہی، میرے رفیق
صبح کا ذکر ابھی رہنے دو

0
3