| ہم نہ تھے دیپ، تری رہ میں جلے ہیں لیکن |
| تجھ کو لگتا ہے کہ اغیار بھلے ہیں لیکن |
| ہم کہ سورج تھے فلک پر تھا ٹھکانہ اپنا |
| اب تری زلف کی شاموں میں ڈھلے ہیں لیکن |
| یاد آئے گی مہک لمس کی، تنہائی میں |
| چھوڑ کر اس کو بہت دور چلے ہیں لیکن |
| کر چکے گرچہ وہ اب ترکِ تعلق ہم سے |
| ہو گی ہم ہی میں کمی، وہ تو بھلے ہیں لیکن |
| ہم کو ڈسنے میں انہیں عار نہیں ہے کوئی |
| آستینوں میں ہماری ہی پلے ہیں لیکن |
| اڑ گئے خود ہی تری یاد کے پنچھی دل سے |
| نیند آنکھوں سے اڑا کر ہی ٹلے ہیں لیکن |
معلومات