دل سے غبارِ ہجر مکمّل نہیں گیا
“رسّی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا”
کہنے کو مسکرا کے سبھی زخم سی لیے
دل سے کسی کا درد مسلسل نہیں گیا
ہر چند وقت لے گیا چہروں کی تازگی
ماتھے سے پہلی چاہ کا آنچل نہیں گیا
بارش نے دھو دیے تھے در و بام سب مگر
آنکھوں سے رنج و درد کا کاجل نہیں گیا
دن میں انا کے شور میں کھویا تھا ہر کوئی
گھر کون رات آئی تو بے کل نہیں گیا
رشتوں کے بیچ کتنے ہی پردے پڑے رہے
آنکھوں سے اعتبار تو اک پل نہیں گیا
ہم نے چراغ بانٹ کے کر دی ہے روشنی
اور روشنی سے ماہِ مبیں جل نہیں گیا
منصف بدل گئے ہیں کئی فیصلے ہوئے
نظروں سے پر نصیب کا تو حل نہیں گیا
پتھر کے شہر میں بھی محبت رہی مقیم
دیوانگی کا آخری جنگل نہیں گیا
اک پل میں ڈھیر ہو گئے نفرت کے سب محل
صدیوں کا پیار چھوڑ کے ہلچل نہیں گیا
طارق یہ اور بات ہے صورت بدل گئی
“دل سے خیالِ یار مکمل نہیں گیا”

0
8