کوئی بھی غم کبھی تیرے قریب آ نہ سکے
تری نظر میں کوئی اشک مسکرا نہ سکے
الٰہی! دشتِ تمنا میں ایسی بارش ہو
کہ تیرے لب پہ کبھی پیاس سر اٹھا نہ سکے
ملے وہ تجھ کو محبت کہ تیرے آنگن سے
جدائیوں کا کوئی خوف سر اٹھا نہ سکے
دُعا جو اٹھے ترے ہاتھ سے، وہ پوری ہو
کوئی بھی در تجھے محروم بھی کرا نہ سکے
رہے نہ کوئی بھی حسرت ترے فسانوں میں
کوئی ملال کبھی بھی تجھے مٹا نہ سکے
نہ پیش آئے کوئی موڑ بے بسی کا تجھے
زمانے بھر، مجبوری تجھے ہرا نہ سکے
ترے وجود کی شادابیوں کے صدقے میں
الہی فضل عطا ہو، تو غم کو پا نہ سکے
ترے دیار میں اب کوئی دل اداس نہ ہو
ترے قریب کوئی بھی فساد آ نہ سکے

0
5