کسی کو کسی کی خبر ہی نہیں تھی
کسی کو کسی کی فکر ہی نہیں تھی
وہاں ایک مدت سے اک شور برپا
مگر کوئی آواز سنتا نہیں تھا
وہاں قتل ہوتے رہے روز لیکن
کسی شخص نے کچھ بھی دیکھا نہیں تھا
وہ منصف بھی تھے اور قاتل وہی تھے
مگر ان کے ہاتھوں پہ دھبہ نہیں تھا
جو مقتول تھا، اس کا کوئی نہ نکلا
جو قاتل تھا، وہ بے سہارا نہیں تھا
وہ ہر ظلم کو جانتا تھا، مگر پھر
وہ خاموش تھا، اس نے روکا نہیں تھا
کسی نے کہا، تم نے دیکھا تھا سب کچھ
وہ بولا، مگر میں نے مارا نہیں تھا
یہ سچ تھا کہ اس نے کسی کو نہ مارا
مگر اس نے سچ بھی تو بولا نہیں تھا
اب اس شہر میں ایک انساں بچا ہے
وہ خود سے نظر تک ملاتا نہیں تھا
وہ کہتا رہا، میں تو بے جرم ہوں اب
مگر دل میں اس پر بھروسا نہیں تھا
کہ جس وقت بازار میں خون بہا تھا
وہ گھر میں تھا اور کچھ بھی کہتا نہیں تھا

0
1