یہ گھر بھرا ہے مگر کوئی آشنا بھی نہیں
کھلے ہیں در مگر اندر کوئی صدا بھی نہیں
وہ میرے گھر میں رہا ایک عمر لیکن پھر
گیا تو ایسا کہ جیسے کبھی رہا بھی نہیں
وہ ایک شخص مری یاد میں تو زندہ ہے
مگر یہ سچ ہے کہ اب اس سے رابطہ بھی نہیں
کسی نے پوچھ لیا حال، ہنس دیا میں بھی
بہت سا درد تھا دل میں، مگر کہا بھی نہیں
وہ ایک خط جو درازوں میں رہ گیا تھا کہیں
اب اس میں نام تو ہے، کوئی مدعا بھی نہیں
چراغ بجھ بھی گیا تو عجب سکوں سا ہوا
کہ اب اندھیرے سے کوئی مرا گلہ بھی نہیں
کسی کی یاد سے کمرہ بھرا ہوا ہے مگر
یہاں وہ شخص تھا، اس کا نشاں ذرا بھی نہیں

0
5