| مثلِ گُل مَیں بِکھرنے والا ہوں |
| مَیں تہِ خاک اُترنے والا ہوں |
| لوگ کہتے ہیں، مرنے والا ہوں |
| میں ابھی اور اُبھرنے والا ہوں |
| تیری آنکھوں کے خالی ساغر میں |
| مَے محبت کی بھرنے والا ہوں |
| چاند بن کر کسی کی راتوں میں |
| کچھ گھڑی کو ٹھہرنے والا ہوں |
| عشق کی آخری مسافت میں |
| حد سے آگے گزرنے والا ہوں |
| جسم مٹی کا ہے سو مٹی میں |
| حسبِ فطرت اُترنے والا ہوں |
| مصلحت کے حصار ٹوٹیں گے |
| حق کی خاطر گزرنے والا ہوں |
| بیچ بازارِ زر پرستی میں |
| سِیم و زَر سے مُکرنے والا ہوں |
| اِک صدا آ رہی تھی مدت سے |
| مَیں بھی آخر سنورنے والا ہوں |
| اُس کی جاویدؔ ! چشمِ پُرنم میں |
| عمر بھر کو اُترنے والا ہوں |
| وہ بھی جاویدؔ ! منتظر ہو گا |
| جس کو چھُو کے نِکھرنے والا ہوں |
معلومات