چلو نظّارہ پھر سے ہم کریں اک بار جلسے کا
سمیٹیں رحمتیں آ کر کھُلا دربار جلسے کا
یہاں ہر سمت ذکرِ کبریا کی روشنی بکھری
منوّر دل ہوئے موسم ہے پُر انوار جلسے کا
مسیحا کی دعاؤں کا ثمر یہ فیضِ ربّانی
زمانہ دیکھتا ہے پھیلتا گلزار جلسے کا
خدا کے فضل سے ایّام تینوں پُر یہ برکت سے
نیا اک جوش ہے اک ولولہ ہر بار جلسے کا
خطاباتِ خلافت روح کو اک تازگی بخشیں
بدل دیتا ہے دل ماحول پُر اسرار جلسے کا
محبت حلم ایثار و وفا کی پھیلتی خوشبو
ہر اک خادم ہے گویا اک گلِ رخسار جلسے کا
کوئی مہمان کی راحت میں اپنی نیند کھو بیٹھا
یہی تو حسن ہے پُر لطف ہے آزار جلسے کا
ہزاروں اجنبی چہرے بھی اپنے لگنے لگتے ہیں
عجب دستور ہے کیا خُوب ہے اظہار جلسے کا
یہاں مل کر دعائیں آسمانوں تک پہنچتی ہیں
فلک سے ہو رہا ہوتا ہے یوں دیدار جلسے کا
یہ عالم دیکھ کر دل میں یقیں ہوتا ہے پھر تازہ
یہ روحانی ہے جتنا بھی ہے کاروبار جلسے کا
خدایا یہ محبت یہ اخوت یہ وفا تجھ سے
یہی تو راستہ لے کر چلے ابرار جلسے کا
چلو طارِق کریں نظّارہ پھر اک بار جلسے کا
سعادت ہے بنیں اک ذرّۂ انوار جلسے کا

0
5