| چراغ ہم نے جلائے ہیں جو یہاں پہ ابھی |
| ستارے لڑنے لگے ہوں گے آسماں پہ ابھی |
| نظر میں آنے لگا میں بھی اب زمانے کے |
| چلا ہوں ایک قدم عشق کے نشاں پہ ابھی |
| اسی خیال میں بیٹھا رہا وہ موت تلک |
| کسی دوا کا اثر ہوگا بدگماں پہ ابھی |
| کبھی جو میرے ہی سائے میں سانس لیتے تھے |
| چلا رہے ہیں وہ پتھر مرے مکاں پہ ابھی |
| زمینِ دل پہ لگے ہیں جو زخم تازہ ہیں |
| ذرا سنبھال کے رکھنا قدم یہاں پہ ابھی |
| بلندیوں پہ چمکتے ہیں جو ستارے اب |
| کبھی کھڑے تھے وہیں پر تو ہے جہاں پہ ابھی |
| نگاہِ یار کی مستی میں کھو گیا طیب |
| اسے خبر ہی نہیں ہے کہ ہے کہاں پہ ابھی |
معلومات