| یہاں پہ آ کے تو بس خوار ہو گئے ہم لوگ |
| اب اس مقام پہ لاچار ہو گئے ہم لوگ |
| گلہ نہیں کہ زمانے نے راستہ روکا |
| خود اپنی راہ میں دیوار ہو گئے ہم لوگ |
| ہمیشہ اشکِ ندامت پیے گئے چپ چاپ |
| اب تو گریۂ بے اختیار ہو گئے ہم لوگ |
| خود اپنے آپ سے نظریں ملا کے چلتے تھے |
| خود اپنی ذات سے بیزار ہو گئے ہم لوگ |
| لبوں پہ حرفِ بغاوت سجا کے پھرتے تھے |
| اُسی جبر کے طرف دار ہو گئے ہم لوگ |
| ہمیں تو سچ کی حفاظت کا زعم تھا لیکن |
| سکوتِ وقت کے پہرے دار ہو گئے ہم لوگ |
| وہ ایک خواب جسے عمر بھر بچایا تھا |
| اسی کے ہاتھ گرفتار ہو گئے ہم لوگ |
| تمام عمر زمانے پہ حرف رکھتے رہے |
| کھلی جو آنکھ، گنہگار ہو گئے ہم لوگ |
| ہر ایک شخص کی مرضی کا روپ دھرتے ہوئے |
| خود اپنی نظر میں بے اعتبار ہو گئے ہم لوگ |
| نہ جانے کون سی منزل کی جستجو تھی ہمیں |
| کہ اپنے گھر میں بھی اغیار ہو گئے ہم لوگ |
| وجود اپنا بچانے کی دھن میں آخرکار |
| وجود ہی کے طلبگار ہو گئے ہم لوگ |
| کوئی گواہ نہ تھا شاہدؔ، ہماری ہستی کا |
| سو اپنے آپ کے آثار ہو گئے ہم لوگ |
معلومات