| نفع کی فکر میں کھوئے ہو، تمہارا کیا ہے |
| جس نے پایا ہی نہیں، اُس کو خسارہ کیا ہے |
| ایک امید پہ قائم ہے یہ دنیا ورنہ |
| ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا کیا ہے |
| دھڑکنیں تیز ہوئیں جب بھی قریب آئے ہو |
| میں تو سمجھا ہی نہیں، دل کا اشارہ کیا ہے |
| سوچ میں ڈوبا ہوا چاند فلک پر ہو گا |
| تیرے ماتھے پہ چمکتا یہ ستارہ کیا ہے |
| اہلِ ساحل کو کہاں علمِ کنارہ ہو گا |
| ڈوبنے والے سے یہ پوچھو، کنارہ کیا ہے |
| ہے کچھ ایسی ہی مقدر کی لکھاوٹ اپنی |
| اب جو ہے سو ہے، کہو دوش ہمارا کیا ہے |
| نقش اپنا ہی جو دیکھا تو یہ پوچھا اُس نے |
| تم نے کاغذ پہ قلم سے یہ اتارا کیا ہے |
معلومات