رحمتوں کے ہیں وہ دریا، شفقتوں کے ہیں وہ ساگر
کون پا سکتا ہے اب تو، شانِ مصطفیٰؐ کے عنصر
مہر و مہ بھی ہیں حقیقت، ان کے فیض ہی کے پیاسے
نور ان کا ہی تو پھیلا، کائنات کے اب اندر
ذکرِ پاکِ مصطفیٰؐ سے، دل کو ملتی ہے تسکین
یاد ان کی بن گئی ہے، زادِ راہِ روزِ محشر
نقشِ پاکِ مصطفیٰؐ سے، راہیں سب ہیں جگمگائیں
ان کی ذاتِ اقدس ہی تو، ہے وفا کا ایک پیکر
جب بروزِ حشر خاکیؔ، سب خطائیں سامنے ہوں
آسرا ہوں گے یقیناً، شافعِ روزِ محشر

0
3