| خود کو بھول بھی جاؤں وہ اوقات نہیں بھولوں گا میں |
| اچھی یادیں پیار بھرے لمحات نہیں بولوں گا میں |
| یاد ہے اب بھی ٹھنڈی سڑک کے پاس کبھی تھا اپنا گھر |
| اور انہی گلیوں سڑکوں میں دوست گھماتے تھے دن بھر |
| پانی کے جب کین اٹھائے کالونی میں جاتے تھے |
| لمبی قطاروں میں لگ کر ہم کتنا وقت گنواتے تھے |
| یاد کبھی وہ لمحے آئیں خود ہی ہنستا جاتا ہوں |
| یاد کی خستہ سی سڑک پر میں گاتا گاتا جاتا ہوں |
| دروازے سے فقیر کبھی بھی خالی ہاتھ نہ جاتا تھا |
| سبزی والا ٹھیلے والا مچھلی والا آتا تھا |
| آس پڑوس سے امی جان کی کتنی سہیلیاں آتی تھیں |
| باجی، خالہ، آنٹی، پھپھو، کتنی ہی سب بن جاتی تھیں |
| ہم اسکول سے بھاگ کے جب سب دوست شکار پہ جاتے تھے |
| اکثر خالی ہاتھ پلٹتے اور آپس میں لڑتے تھے |
| ہم دریا کی ریت کو اپنی جیبوں میں بھر لاتے تھے |
| اس پر پکڑے جاتے تھے، امی سے مار بھی کھاتے تھے |
| میرے لیے تو یادِ ماضی، دیکھو یار عذاب نہیں |
| گزرا زمانہ تو ہے سہانا، اس سے سہانا خواب نہیں |
| ہم پردیس خوشی سے نہیں، بس مجبوری سے آئے ہیں |
| اور ہمارے دل تو ہم نے اب بھی وطن میں بسائے ہیں |
معلومات