گلیاں ہیں مدینے کی مرا دل ہے مسافر
جائے گا کہاں یاں سے یہ مشکل ہےمسافر
لو لاک لما درسِ تقدس میں ہے آیا
منظر ہے عیاں بات نہ حائل ہے مسافر
ممکن ہی نہیں ہے کہ بھٹک جائے کسی سمت
در شہرِ مدثر و مزمل ہے مسافر
دائم ہے یہاں فصلِ رفعنا لک زکرک
خوشبو کو یہیں خُلد جو حاصل ہے مسافر
تجھ پر نہ کوئی رختِ سفر اور ہے واجب
بس ایک سفر ایک ہی منزل ہے مسافر
بن جائے سرِ حشر کوئی نعت وسیلہ
مدحت کے سُخن زار میں داخل ہے مسافر
یہ گنبدِ خضرا ہے نگاہوں کا جو محور
یہ گلشنِ ازکار عنادل ہے مسافر
ملجا سے ملے سایۂ یاسین و طاہہ
شیدا بھی تھکے ہاروں میں شامل ہے مسافر

0
18