| وہ ہم کو راہ راست پہ لاتے ہی رہ گئے |
| اس کام میں وہ مات گو کھاتے ہی رہ گئے |
| ہم کو کوئی بھی مے نہیں مخمور کر سکی |
| وہ ہم کو جامِ عشق پلاتے ہی رہ گئے |
| وہ ان سنی کیے گئے ہر بات سب ہی کی |
| دکھ درد ان کو ہم بھی سناتے ہی رہ گئے |
| جب راہ ہم بدلنے پہ مجبور ہو گئے |
| یاران پھر ہمیں تو مناتے ہی رہ گئے |
| ہم میں کوئی بھی گُن نہیں بس عام سے ہیں ہم |
| یہ بات ہر کسی کو بتاتے ہی رہ گئے |
| خدام بن کے قوم سے عزت جو ملی تھی |
| کچھ کوڑیوں کے مول گنواتے ہی رہ گئے |
| دامن پہ اپنے غدر کا الزام یوں لگا |
| ہم خوں سے اپنے اس کو مٹاتے ہیں رہ گئے |
معلومات