| چرچے ہیں مسرت کے میلاد کی گھڑیاں ہیں |
| ملتی ہے خوشی جس میں اس یاد کی گھڑیاں ہیں |
| جو ڈنکے دہر میں ہیں سرکار کی مدحت ہے |
| ہیں دھوم مچی جس کی دلشاد کی گھڑیاں ہیں |
| جو یاد کے جوہر ہیں چنتے ہیں ذکر والے |
| رحمت کی ہو جب برکھا فریاد کی گھڑیاں ہیں |
| دل کو ہیں سکوں دیتی دلدار کی سب باتیں |
| جو عطرِ نبی لائے اس باد کی گھڑیاں ہیں |
| آتے ہیں فدا اس جا مختار کی مجلس میں |
| کہتے ہیں یہ ہی لمحے ارشاد کی گھڑیاں ہیں |
| جو عشقِ نبی میں دل کشتہ ہیں محبت کا |
| بَر وقت انہیں ملتی یہ ساد کی گھڑیاں ہیں |
| محمود ملیں موتی سرکار کے کوچے میں |
| جو وقت ملے اس جا امداد کی گھڑیاں ہیں |
معلومات