تم تخت و تاج کے مالک ہو
دنیا والوں کے رازق ہو؟
دنیا میں اکڑ کر چلتے ہو
دنیا کے تم ہی خالق ہو؟
مرنا ہے یہاں سے جانا ہے
جینے کا ہنر سکھلانا ہے
وارث ہیں نبی کے اس خاطر
دنیا کو بھی سمجھانا ہے
دنیا تو ایک نصیحت ہے
فانی ہے یہ تو حقیقت ہے
فانی دنیا کی بغاوت میں
قائم ہوگی جو قیامت ہے
مٹی کے بنے اک پتلے ہو
مٹی سے نفرت کرتے ہو؟
مٹی میں تم کو جانا ہے
مٹی سے تم کیوں ڈرتے ہو؟
اچھی باتوں کو یاد رکھو
جیون بھی اپنی شاد رکھو
اے ابن یونسؔ تم سن لو
جاری اپنی فریاد رکھو

0
19