| جو خواب کبھی پورے نہ ہوئے، ان خوابوں کا چرچا کون کرے |
| جو عمر گزر کر لوٹے ناں، اس عمر کا شکوہ کون کرے |
| کچھ لوگ بچھڑ کر یاد رہے، کچھ پاس رہے تو بھول گئے |
| جو دل سے کبھی نکلا ہی نہیں، اس شخص کو رسوا کون کرے |
| جو زخم ملے تھے اپنوں سے، وہ زخم بھی آخر بھر ہی گئے |
| جو درد ابھی تک باقی ہے، اس درد کا سودا کون کرے |
| ہم سچ سے بھی نظریں چراتے رہے، ہر جھوٹ کو سچ بتلاتے رہے |
| جب اپنے ہی دل کو دھوکا دیا، پھر سچ کا دعویٰ کون کرے |
| شاہدؔ اب اتنا جان لیا، ہر جیت میں کچھ نقصان ہوا |
| جب ہار میں دل کو فکر نہیں، پھر فتح کا دعویٰ کون کرے |
معلومات