| اپنے باطن میں گر جھانک کر دیکھیے |
| کتنا بے بس ہے خاکی بشر دیکھیے |
| جب تکبر کو سَر سے اُتاریں گے ہم |
| اچھا لگنے لگے گا نگر دیکھیے |
| پھُول کھِلنے لگے ہر طرف اَمن کے |
| یہ ہے میری دُعا کا اثر دیکھیے |
| جس نے ماں باپ کو تھا ستایا بہت |
| آج پھرتا ہے وہ در بدر دیکھیے |
| کرنے والے ہیں سب ہی محبت یہاں |
| خشک ہوتی ہے کب چشمِ تر دیکھیے |
| شہرِ جاناں سے بے فیض آیا ہے وہ |
| دست بستہ کھڑا نامہ بَر دیکھیے |
| ہم تو جاویدؔ ! ہیں منتظر ہر گھڑی |
| جانے کب ہوگی اُن کو خبر دیکھیے |
معلومات