| کرے دور درد و غم کو، سرکار کی نظر |
| ہے ملتی جہاں سے خیر، وہ آپ کا ہے در |
| وہ لیٹے ہیں پالنے میں، دیکھیں کھلونے کو |
| یہ ہمراہ جس کے کھیلیں، نوری ہے وہ قمر |
| لو یثرب مدینہ ہے اب، آقا کریم سے |
| ہے کتنا حسین شہر، سرکار کا نگر |
| ہیں احسانِ مصطفیٰ کے، ہستی پہ بے بہا |
| یوں مانیں نبی کے امر، جملہ مہر قمر |
| نبی پر درود بھیجیں، اُن پر سلام بھی |
| ہے دیتا کریمِ کبریا، پھر گراں ثمر |
| ہے ذکرِ جمالِ یار، تدبیرِ درد و غم |
| ہیں یادیں وصالِ دلربا، راحتوں سے پُر |
| اے محمود! خوف کیوں ہے، دکھ درد سے بچیں |
| ہے پڑھنا درود اُن پہ، کونین میں مفر |
معلومات