کرب سے جس کے گزرتا ہوں، بتاؤں کیسے
دل سے جو دور گیا، اس کو بساؤں کیسے
​روٹھنے والے کو میں آج مناؤں کیسے
مسکرا کر غمِ دل سب سے چھپاؤں کیسے
​ایک تصویر مرے دل سے نہیں مٹتی ہے
اپنے ہاتھوں سے اسے آج جلاؤں کیسے
​رات کٹتی ہے مری تاروں کو گنتے گنتے
دلِ ناداں کو سکوں آج دلاؤں کیسے
​وقت نے شادؔ کھڑا کر دیا کس موڑ پہ آج
راستہ کون سا اپنا ہے، بتاؤں کیسے

0
1