عطا مصطفیٰ کی رکھے شاد مولا
سدا دل رہے اس سے آباد مولا
نہ جانوں میں کب سے ہے ویران یہ من
بنے حجرہ اُن کا ہو آباد مولا
ہوں مسنون اعمال میرے کروں جو
کرے فکرِ دنیا نہ برباد مولا
درِ مصطفیٰ اب ٹھکانہ بنا دے
غموں سے رہوں پھر میں آزاد مولا
مدینے بلا لیں میں دیکھوں وہ جالی
خزیں دل سے نکلے یہ فریاد مولا
غلامِ نبی مجھ کو رکھنا ہمیشہ
ہو عشقِ نبی اس کی بنیاد مولا
رہے خوش یہ محمود شہرِ نبی میں
نہ دنیا کرے اس کو ناشاد مولا

0
3