زباں گونگی ہے دل بے چین سے بس یاد کرتا ہوں
میں دھوکے دے کے اپنے دل کو خود ہی شاد کرتا ہوں
تمہی تو یاد آتی ہو بھلا کیسے بھلا پاؤں؟
تری تصویر کے نقشے کو میں آباد کرتا ہوں
گزارے تھے حسیں لمحے گزارے پل کو بھی انجم
کرو تم یاد نا لیکن میں بھر بھی یاد کرتا ہوں
مرے تکیے گواہی دے رہے ہیں تیری فرقت کے
اکیلے مست رہنے کے سمَے ایجاد کرتا ہوں
محبت کی یہی شدت کریں محسوس سب کیسے؟
میں اپنے غم کو جانے کیسے بھی آزاد کرتا ہوں
اگر میں یاد آجاؤں دعا کرنا یہی دل سے
تمہارے غم سنانے کو یہی امداد کرتا ہوں
ہماری شاعری کیوں کر مبارکؔ لوگ سمجھیں گے
ذرا مشکل سی باتیں ہیں جو میں ارشاد کرتا ہوں

0
8