وہ جو کل تلک مرے ساتھ تھے انہیں کیا ہوا وہ کدھر گۓ
انہیں یاد کر کے نہ روئیے جو یہاں نہیں وہ گزر گۓ
جو دیا مجھے سو دیا ہے غم کسی آشنا کا ہو پاس کیوں
مجھے اب کسی سے گلہ نہیں مرے واسطے سبھی مر گئے
وہی لوگ ہو گۓ بے وفا جو عزیز تھے دل و جان سے
ہے وفا کا ایسا صلہ ملا کہ وفا کے نام سے ڈر گۓ
مری جیت میں مری ہار ہے مرا خود سے ہی تھا یہ معرکہ
مرے اپنے دستِ جنوں وہ تھے مجھے پہنچا کے جو ضرر گۓ
کوئی غم ہو کیوں یہاں مستقل کہ یہ زندگی ہی ہے عارضی
کسی ایک پل میں یہاں رہے کسی ایک پل میں بکھر گۓ
وہ جو آگ تھی جو لگی نہیں جو لگی کبھی تو بجھی نہیں
مری حسرتیں مرے خواب بھی اسی آگ ہی کی نظر گۓ

0
10