| ویران دریچوں پر گھر کے کچھ یاد کے دیپک جلتے ہیں |
| شب بھر یہ ہوا سے لڑتے ہیں پھر صبح کو آخر بجھتے ہیں |
| الفاظ یہاں کچھ ایسے ہیں معنی کو ترستے رہتے ہیں |
| ملتی ہے زباں ہر غم کو کہاں، کچھ غم آہوں میں ڈھلتے ہیں |
| اس خاک نشینی میں رہ کر ہم نے تو فقط یہ جانا ہے |
| اک تیز ہوا کے جھونکے سے سب تاش محل گر جاتے ہیں |
| پیوند لگے اس دامن کو اب جا کے کہاں ہم دھوئیں گے |
| آنکھوں کا سہارا لیتے تھے، اب اشک بغاوت کرتے ہیں |
| نم ناک یہ آنکھیں رہتی ہیں، اشکوں سے ہوئیں لیکن خالی |
| مخمور نظر یہ آتی ہیں، ایسا بھی نہیں ہم پیتے ہیں |
| جو شخص بہ ظاہر ہنستا ہے ممکن ہے اندر سےٹوٹا ہو |
| کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسے، ہر غم کو ہنسی میں اڑاتے ہیں |
| جب راکھ مرے کاشانے کی عشیار اڑی تھی فضاؤں میں |
| محسوس کیا تب یہ میں نے، کچھ لوگ پرندے ہوتے ہیں |
معلومات