ویران دریچوں پر گھر کے کچھ یاد کے دیپک جلتے ہیں
شب بھر یہ ہوا سے لڑتے ہیں پھر صبح کو آخر بجھتے ہیں
الفاظ یہاں کچھ ایسے ہیں معنی کو ترستے رہتے ہیں
ملتی ہے زباں ہر غم کو کہاں، کچھ غم آہوں میں ڈھلتے ہیں
اس خاک نشینی میں رہ کر ہم نے تو فقط یہ جانا ہے
اک تیز ہوا کے جھونکے سے سب تاش محل گر جاتے ہیں
پیوند لگے اس دامن کو اب جا کے کہاں ہم دھوئیں گے
آنکھوں کا سہارا لیتے تھے، اب اشک بغاوت کرتے ہیں
نم ناک یہ آنکھیں رہتی ہیں، اشکوں سے ہوئیں لیکن خالی
مخمور نظر یہ آتی ہیں، ایسا بھی نہیں ہم پیتے ہیں
جو شخص بہ ظاہر ہنستا ہے ممکن ہے اندر سےٹوٹا ہو
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسے، ہر غم کو ہنسی میں اڑاتے ہیں
جب راکھ مرے کاشانے کی عشیار اڑی تھی فضاؤں میں
محسوس کیا تب یہ میں نے، کچھ لوگ پرندے ہوتے ہیں

0
12