| وفا اگر فضول ہے، قبول ہے |
| یہی ترا اصول ہے، قبول ہے |
| ہزار زخم دل پہ تو لگائے جا |
| تِرا دیا یہ پھول ہے، قبول ہے |
| کبھی اگر گلہ لبوں پہ آ گیا |
| ہماری ہی یہ بھول ہے، قبول ہے |
| تِری گلی سے اڑ کے جو مِرے لیے |
| ہوا میں آئی دھول ہے، قبول ہے |
| مِلا ہے عشق میں جو رنجِ بے اماں |
| ہمیں یہی وصول ہے، قبول ہے |
| قدم قدم پہ خار ہی اگر مِلے |
| یہ راستہ قبول ہے، قبول ہے |
| تِری جفا پہ لب نہ کھول پائے ہم |
| اگرچہ دل ملول ہے، قبول ہے |
| ستم کی کوئی انتہا نہ ہو اگر |
| یہ بے حسی فضول ہے، قبول ہے |
| جفا کی رسم جو رَوا رکھی گئی |
| جنوں کا یہ نزول ہے، قبول ہے |
| بہار بھی اگر اداس کر گئی |
| خزاں کی جو بھی دھول ہے، قبول ہے |
| ملی ہیں ٹھوکریں جو کوئے یار میں |
| یہ منزلِ حصول ہے، قبول ہے |
| یہ زندگی تِرے کرم کے آس پاس |
| دعا کے بعد طُول ہے، قبول ہے |
معلومات