| یار کی تصویر بھی دل گیر ہونی چاہیے |
| آخر اتنی آہ میں تاثیر ہونی چاہیے |
| ۔ |
| تم جو ہر اک بات پر اک لفظ کہتے ہو کہ ہونہہ |
| اس کی بھی آخر کوئی تفسیر ہونی چاہیے |
| ۔ |
| جرم ٹھہرے دوستو جس دور میں ہر کارِ خیر |
| شر کی خوب اس دور میں تشہیر ہونی چاہیے |
| ۔ |
| زیست کی رہ ساتھ چلتے ہیں مگر یہ شرط ہے |
| بے وفائی کی بھی کچھ تعزیر ہونی چاہیے |
| ۔ |
| یہ بھی تو لازم نہیں ہر بار بر آئے امید |
| ذہن میں اک ثانوی تدبیر ہونی چاہیے |
| ۔ |
| سلسلہ در سلسلہ یادوں کے دروازے کھلیں |
| اتنی گنجائش کی یہ زنجیر ہونی چاہیے |
| ۔ |
| زندگی ہر مرتبہ آخر کو کھاتی ہے شکست |
| موت افسانے میں اب تسخیر ہونی چاہیے |
| ۔ |
| بے خبر رہنے سے بڑھتے ہیں مدثر فاصلے |
| واجبی سی فکر دامن گیر ہونی چاہیے |
معلومات