| یہ دنیا فریبوں کی بستی ہے یارو |
| یہاں اپنی ہمّت ہی کشتی ہے یارو |
| نہ بہکو ہوس کے سرابوں میں آ کر |
| یہ برباد کرکر کے ہنستی ہے یارو |
| نہ کر بے حیائی نہ کر بد نگاہی |
| یہ شیطان کی موج مستی ہے یارو |
| جو نیکی سے روکے، وہ راہِ ستم ہے |
| یہی تو حقیقت میں سختی ہے یارو |
| نہ دولت پہ نازاں، نہ شہرت پہ مائل |
| یہ دنیا تو لمحوں کی بستی ہے یارو |
| جو سیکھے ہنر، وقت کو نہ گنوائے |
| وہی در حقیقت میں ہستی ہے یارو |
| جو رب کو بھلائے، وہ خالی ہے دل سے |
| یہ گھاٹے کا سودا ہے سستی ہے یارو |
| محبت، اخوت، صداقت ہو دل میں |
| مبارک کا یہ عیش و مستی ہے یارو |
معلومات