یہ دنیا فریبوں کی بستی ہے یارو
یہاں اپنی ہمّت ہی کشتی ہے یارو
نہ بہکو ہوس کے سرابوں میں آ کر
یہ برباد کرکر کے ہنستی ہے یارو
نہ کر بے حیائی نہ کر بد نگاہی
یہ شیطان کی موج مستی ہے یارو
جو نیکی سے روکے، وہ راہِ ستم ہے
یہی تو حقیقت میں سختی ہے یارو
نہ دولت پہ نازاں، نہ شہرت پہ مائل
یہ دنیا تو لمحوں کی بستی ہے یارو
جو سیکھے ہنر، وقت کو نہ گنوائے
وہی در حقیقت میں ہستی ہے یارو
جو رب کو بھلائے، وہ خالی ہے دل سے
یہ گھاٹے کا سودا ہے سستی ہے یارو
محبت، اخوت، صداقت ہو دل میں
مبارک کا یہ عیش و مستی ہے یارو

0
2