خون دے کر نکھاریں گے ارضِ وطن
یوں چُکاتے رہیں گے یہ قرضِ وطن
تیرے پربت ،یہ دریا ،یہ گلزار سب
جان سے بھی ہیں پیارے اے ارضِ وطن
سرحدوں پر جوانوں کا عزمِ وفا
جان دے کر نبھاتا ہے فرضِ وطن
خُوں پسینے کو ہم ایک کرتے ہوئے!!
اب سنواریں گے مل کر یہ ارضِ وطن
سبز پرچم کے سائے تلے ہم سبھی!!
ایک ہو کر نبھائیں گے فرضِ وطن
نسلِ آدم ہو تم پہلے اِنساں بنو !
آج بھی ہے یہی ہم سے عرضِ وطن
ہم پہ جاویدؔ واجب ہوا یا نہیں !!
مَر کے بھی ہم اُتاریں گے قرضِ وطن

164