| خون دے کر نکھاریں گے ارضِ وطن |
| یوں چُکاتے رہیں گے یہ قرضِ وطن |
| تیرے پربت ،یہ دریا ،یہ گلزار سب |
| جان سے بھی ہیں پیارے اے ارضِ وطن |
| سرحدوں پر جوانوں کا عزمِ وفا |
| جان دے کر نبھاتا ہے فرضِ وطن |
| خُوں پسینے کو ہم ایک کرتے ہوئے!! |
| اب سنواریں گے مل کر یہ ارضِ وطن |
| سبز پرچم کے سائے تلے ہم سبھی!! |
| ایک ہو کر نبھائیں گے فرضِ وطن |
| نسلِ آدم ہو تم پہلے اِنساں بنو ! |
| آج بھی ہے یہی ہم سے عرضِ وطن |
| ہم پہ جاویدؔ واجب ہوا یا نہیں !! |
| مَر کے بھی ہم اُتاریں گے قرضِ وطن |
معلومات