دل میں اک خواب ہے، تعبیر کا دعویٰ بھی نہیں
اور اس خواب سے اب دل کو کنارا بھی نہیں
اس سے برسوں سے ملاقات نہیں ہو پائی
دل نے چاہا ہو اسے بھولنا، ایسا بھی نہیں
ہم نے ہنس ہنس کے چھپائے ہیں کئی زخم مگر
کوئی پوچھے تو سنانے کو فسانہ بھی نہیں
ہم نے خاموش نگاہوں کو محبت سمجھا
اس نے لفظوں میں کبھی ہم سے یہ پوچھا بھی نہیں
جس کو کھو دینے پہ برسوں ہمیں افسوس رہا
اب اسے پا کے بھی لگتا ہے کہ اپنا بھی نہیں
شاہدؔ اس عمر میں دل کا یہ عجب عالم ہے
کوئی شکوہ بھی نہیں، پہلے سا بھروسا بھی نہیں

0
4