یہ بندگی نہیں، محرومِ التجا ہونا
خودی کو پا کے بھی حق سے جدا جدا ہونا
بڑا عذاب ہے بے سوزِ مدعا ہونا
تو پھر محال ہے بزمِ جنوں میں وا ہونا
سزا ہے یہ کہ نہ لب پر صداۓ حق آئے
سکوتِ شب میں بھی دشوارِ مدعا ہونا
ترس رہا ہے دلِ زار سوزِ عشق کو پھر
عبث ہے شمع کا بے رنگ و بے ضیا ہونا
ابھی تو خوابِ گراں سے ذرا نکلنا ہے
سحر کی سمت ہے روحِ امید کا ہونا
سحر کی سانس سے جاگے گی روحِ نومیدی
ابھی تو شرط ہے خود اپنے سے وفا ہونا

0
2