| مگن تھا اپنے آپ میں دیوانہ بن گیا |
| زمانے کے ستانے کا بہانہ بن گیا |
| فقط کسی سے ایک پل کا سامنا ہوا |
| خبر اڑی کچھ اس طرح فسانہ بن گیا |
| ستم پہ چپ نہیں رہا مچا دیا وہ شور |
| جو ظلم کے خلاف تازیانہ بن گیا |
| گھٹا اٹھی فلک پہ اور پھر برس پڑی |
| ہمارا بھی مزاج شاعرانہ بن گیا |
| کسی حسین سے مری جو دوستی ہوئی |
| نہ جانے کیوں عدو مرا زمانہ بن گیا |
| گلی گلی جو بے سبب ہی گھومتا تھا وہ |
| کسی نظر کے تیر کا نشانہ بن گیا |
| میں پائی پائی پیار کی سنبھالتا رہا |
| مرا یہ دل تو پیار کا خزانہ بن گیا |
معلومات