مگن تھا اپنے آپ میں دیوانہ بن گیا
زمانے کے ستانے کا بہانہ بن گیا
فقط کسی سے ایک پل کا سامنا ہوا
خبر اڑی کچھ اس طرح فسانہ بن گیا
ستم پہ چپ نہیں رہا مچا دیا وہ شور
جو ظلم کے خلاف تازیانہ بن گیا
گھٹا اٹھی فلک پہ اور پھر برس پڑی
ہمارا بھی مزاج شاعرانہ بن گیا
کسی حسین سے مری جو دوستی ہوئی
نہ جانے کیوں عدو مرا زمانہ بن گیا
گلی گلی جو بے سبب ہی گھومتا تھا وہ
کسی نظر کے تیر کا نشانہ بن گیا
میں پائی پائی پیار کی سنبھالتا رہا
مرا یہ دل تو پیار کا خزانہ بن گیا

0
3